Ilyassawalgar

Sunday, 2 September 2018

ڈی پی او تبادلہ ازخود نوٹس: آئی جی پنجاب نے خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا

ڈی پی او تبادلہ ازخود نوٹس: آئی جی پنجاب نے خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا
ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) پاکپتن کے تبادلے پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے سرزنش کرنے پر آئی جی پنجاب کلیم امام نے خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ عمران کے سابق شوہر خاور مانیکا اور ان کی بیٹی مبشرہ مانیکا بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔

سماعت شروع ہوئی تو آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ تمام طلب کردہ افراد عدالت میں موجود ہیں اور تمام افراد کے بیانات حلفی بھی پیش کردیے گئے ہیں۔

اس موقع پر آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو وزیراعلیٰ کے دفتر نہ جانے کا کہا تھا جس پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے اسفتسار کیاکہ آپ نے کہا تھا کہ ہم 24 گھنٹے کام کرتے ہیں اس لیے رات 1 بجے تبادلہ کیا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فائل دکھائیں، ڈی پی او کا تبادلہ تحریری آرڈر سے ہوا یا زبانی احکامات سے جس پر آئی جی پنجاب نے بتایا کہ تبادلے کا حکم زبانی دیا گیا، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے میری دی ہوئی ہدایات بھلا دیں، میں نے تمام آئی جیز کو بلا کر کہا تھا آج سے سیاسی اثر و رسوخ سےآزاد ہو جائیں، پولیس سیاسی دباؤ اور حاکموں کے کہنے پر کام نہ کرے۔

اس موقع پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ ڈی پی او نے خاتون سے بدتمیزی کا نوٹس کیوں نہیں لیا جس پر چیف جسٹس استفسار کیا کہ کیا بطور کمانڈر آپ نے دیانتداری کا مظاہرہ کیا، زبانی ٹرانسفر کے احکامات کیوں دیے تھے۔

عدالت کی شدید برہمی پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ میں خود کوعدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں تاہم چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہمیں فائل دکھائیں جس پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ میں نے تبادلہ پوسٹ ڈیٹڈ کرنا تھا، چیف جسٹس نے کہا ہمیں پوسٹ ڈیٹڈ فائل ہی دکھا دیں جس پر آئی جی پنجاب نے کہا ابھی فائل میرے پاس نہیں ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے سماعت کے دوران استفسار کیا کہ احسن گجر کون ہے، کہاں ہے،کھڑے ہوجاؤ، احسن گجر کے خلاف کیوں ایکشن نہیں لیا گیا۔

چیف جسٹس نے احسن گجر سے استفسار کیا کہ کیا آپ بچوں کے گارڈین ہیں جس پر احسن گجر نے کہا میں اَن آفیشل گارڈین ہوں، چیف جسٹس نے پوچھا آپ کا وزیراعلیٰ پنجاب سےکیا تعلق ہے جس پر احسن گجر نے کہا کہ میں شہری ہوں۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں کھڑے ہو کر جھوٹ مت بولیں، جس کا دل چاہے پولیس کو بلاکر ذلیل کردے، آپ بچوں کے ماما ہیں یا چاچا۔

یاد رہے کہ عدالت نے آج ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو بھی آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق عدالتی فیصلے پڑھ کر آنے کی ہدایت کی تھی۔

کیس کا پس منظر

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کو ناکے پر روکنے والے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) کا ٹرانسفر کر دیا گیا تھا، جس پر سوشل میڈیا پر خوب لے دے ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق پولیس نے جمعرات 23 اگست کو پاکپتن میں خاور مانیکا کو ناکے پر رکنے کا اشارہ کیا مگر وہ نہ رکے، لیکن جب پولیس نے ان کی کار کو روکا تو انہوں نے غلیظ زبان استعمال کی۔

واقعے کے بعد حکومت پنجاب نے ریجنل پولیس افسر (آر پی او) اور ڈی پی او رضوان گوندل کو جمعہ 24 اگست کو طلب کیا اور ڈی پی او رضوان گوندل کو خاور مانیکا کے ڈیرے پر جاکر معافی مانگنےکا حکم دیا گیا، تاہم رضوان گوندل نے یہ کہہ کر معافی مانگنے سے انکار کردیا کہ اس میں پولیس کا کوئی قصور نہیں۔

جس کے بعد ڈی پی او رضوان گوندل کا تبادلہ کردیا گیا تھا۔

اس معاملے پر حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے آر پی او اور ڈی پی او کو طلب کرکے دونوں افسران کو معاملہ ختم کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم رپورٹ نہ دینے پر انہیں عہدے سے ہٹایا گیا۔

بعدازاں اس معاملے پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے رضوان گوندل کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ یا اس کے پاس بیٹھے شخص کے کہنے پر تبادلہ ہوا تو یہ درست نہیں، کسی وزیراعلیٰ کے لیے بھی آرٹیکل 62 ون ایف کی ضرورت پڑسکتی ہے۔



from سچ ٹی وی اردو - تازہ ترین خبریں https://ift.tt/2PrOHii

No comments:

Post a Comment