
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس نے بتایا کہ پیرس کے شمال مشرقی حصے میں نہر کے قریب علاقے میں ایک چاقو اور سریا بردار شخص نے عوام پر حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 4 افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا تھا کہ ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور وہ افغان باشندہ لگتا ہے، جس نے ’اجنبیوں‘ کو نشانہ بنایا لیکن اب تک دہشت گردی کی نوعیت کے کوئی نشان نہیں ملے ہیں‘۔
واقعے کے عینی شاہد 28 یوسف نجاح کا کہنا تھا کہ وہ کینال کی طرف چہل قدمی کر رہے تھے کہ جب ایک شخص کو انہوں نے بھاگتے ہوئے دیکھا اور اس کے ہاتھ میں 10 سے 11 انچ کا چاقو تھا۔
انہوں نے کہا کہ’ وہ شخص 20 لوگوں کے پیچھے بھاگ رہا تھا اور اس نے ان پر بالز پھینکا شروع کردی جو 4 یا 5 لوگوں کے سر پر لگی لیکن وہ لوگ اس شخص کو روکنے میں ناکام رہے‘
ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور ایک گلی میں گھس گیا، جہاں لوگ 2 برطانوی سیاحوں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہے تھے اور انہیں کہہ رہے تھے کہ دیکھو اس شخص کے پاس چاقو ہے لیکن ان سیاح نے کوئی رد عمل نہیں دیا، جس کے بعد حملہ آور نے حملہ کردیا۔
واقعے کے حوالے سے ایک سیکیورٹی گارڈ نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس نے حملہ آور کو 2 افراد کے پیچھے بھاگتا دیکھا، اس کے ہاتھ میں لوہے کی سلاخ تھی اور وہ پیچھے بھاگ رہا تھا۔
دوسری جانب برطانوی میڈیا نے بتایا کہ برطانوی دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ واقعے سے باخبر ہیں اور وہ فرانسیسی انتظامیہ کے ساتھ مل کر تحقیقات کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ کچھ ماہ میں فرانس میں متعدد اس طرح کے حملے ہوئے، جن میں زیادہ تر میں دہشت گردی کا عنصر پایا گیا تھا۔ 23 اگست کو ایک شخص نے اپنی والدی اور بہن کو قتل کرکے ایک اور شخص کو زخمی کردیا تھا جبکہ پولیس نے ملزم کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا تھا۔
from سچ ٹی وی اردو - تازہ ترین خبریں https://ift.tt/2NsVhru
No comments:
Post a Comment